logo

wosarware kishware risalat Audio Lyrics

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

 

نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے


بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک

 

ملک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنا دل کا بولتے تھے


وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں

 

ادھر سے انوار ہنستے آتے ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے


یہ چھوٹ پڑتی تھی ان کے رخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی

 

وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے


نئی دلہن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا

 

حجر کے صدقے قمر کے اک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے


نظر میں دولہا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے

 

سیاہ پردے کے منہ پہ آنچل تجلی ذات بحت کے تھے


خوشی کے بادل امڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے

 

وہ نغمہٴ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آگئے تھے


یہ جھوما میزاب زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر

 

پھوہار برسی تو موتی جھڑ کی حطیم کی گود میں بھرے تھے


دلہن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے

 

غلاف مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے


پہاڑیوں کا وہ حسن تزیین وہ اونچی چوٹی وہ نازو تمکین

 

صبا سے سبزہ میں لہریں آئیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے


نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آب رواں کا پہنا

 

کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حباب تاباں کے تھل ٹکے تھے


پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا

 

ہجوم تار نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش باولے تھے